-Arshad-Noor-Khan/08.jpg)
جوڈیشل میمبر سندھ Ûیومن رائٹس کمیشن، جسٹس ریٹائرڈ ارشد نور خان کا اپنی ٹیم Ú©Û’ ÛÙ…Ø±Ø§Û Ù„Ø§Ù†ÚˆÚ¾ÛŒ انڈسٹریل ایریا میں 226 بیڈ پر مشتمل سندھ ایمپلائیز سوشل سیکیورٹی انسٹیٹیوشن (SESSI) Ú©Û’ زیر انتظام قائم سوشل سیکیورٹی لانڈھی ÛØ³Ù¾ØªØ§Ù„ کا دورÛÛ”
دورے Ú©Û’ دوران ØµÙØ§Ø¦ÛŒ Ú©Û’ ناقص انتظامات پر سخت برÛÙ…ÛŒ کا Ø§Ø¸ÛØ§Ø± کیا گیا Ø¬Ø¨Ú©Û ÙˆÛØ§Úº موجود مریضوں Ù†Û’ جوڈیشل میمبر Ú©Û’ سامنے شکایات Ú©Û’ انبار لگا دیے، جن میں اسٹا٠کا غیر مناسب Ø±ÙˆÛŒÛØŒ علاج میں غیر ضروری تاخیر۔ ڈاکٹرز Ú©ÛŒ طر٠سے کئی گھنٹے انتظار کرانا، اور مختل٠معمولی آپریشنز Ú©Û’ لئے بھی Ú†Ú¾Û Ú†Ú¾Û Ù…Ø§Û Ú©Ø§ ٹائم دینا، بچوں Ú©Û’ لئے بیڈ Ú©Ù… Ûونے Ú©ÛŒ ÙˆØ¬Û Ø³Û’ ایک بیڈ پر مختل٠بیماریوں میں مبتلا کئی بچوں Ú©Ùˆ رکھنا، ضرورت مند نو مولود بچوں Ú©Û’ لیے انکیبیوٹرز Ú©ÛŒ عدم موجودگی سمیت دیگر کئی مشکلات کا سامنا بھی شامل ÛÛ’ جس پر Ø§Ù†ØªØ¸Ø§Ù…ÛŒÛ Ú©Ùˆ ÛØ¯Ø§ÛŒØ§Øª جاری Ú©ÛŒ گئیں Ú©Û Ù…Ú©Ù…Ù„ اسٹا٠کی موجودگی اور مریضوں Ú©Ùˆ ترجیØÛŒ بنیادوں پر علاج معالجے Ú©ÛŒ سÛولیات Ú©ÛŒ ÙØ±Ø§ÛÙ…ÛŒ Ú©Ùˆ یقینی بنایا جائے۔
بعد ازاں میڈیکل سپریڈنٹ ڈاکٹر سعادت اØÙ…د میمن Ú©ÛŒ جانب سے ÛØ³Ù¾ØªØ§Ù„ Ú©Û’ مجموعی امور پر ØªÙØµÛŒÙ„ÛŒ بریÙننگ دی گئی، جس میں اسٹا٠کی کمی، بجٹ Ú©ÛŒ قلت، آئی سی یو Ú©Û’ قیام، مزید انکیبیوٹرز Ú©ÛŒ ÙØ±Ø§ÛÙ…ÛŒ اور دیگر انتظامی معاملات Ú©Û’ مسائل Ú©Û’ ØÙ„ Ú©Û’ اعلیٰ ØÚ©Ø§Ù… سے بات کرنے Ú©ÛŒ درخواست Ú©ÛŒ گئی۔